حدیث نمبر: 12432
١٢٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية (عن) (١) الأعمش عن المنهال عن زاذان عن البراء قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ في جنازة رجل من الأنصار، فانتهينا إلى القبر (ولما) (٢) يلحد، فجلس رسول اللَّه ﷺ وجلسنا حوله كأنما على رؤوسنا الطير، وفي يده عود ينكت به فرفع رأسه فقال: " (استعيذوا) (٣) باللَّه (من) (٤) عذاب القبر"، ثلاث مرات أو مرتين، ثم قال: "إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة، نزل اليه من السماء ملائكة بيض الوجوه كان وجوههم الشمس، حتى يجلسون منه مدَّ البصر، معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة، ثم يجيء ملك ⦗٢٢٧⦘ الموت فيقعد عند رأسه فيقول: أيتها النفس الطيبة اخرجي إلى مغفرة من اللَّه ورضوان، (فتخرج) (٥) (تسيل) (٦) كما تسيل (القطرة) (٧) من فِيِّ السقاء (٨)، فإذا (أخذوها) (٩) لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وذلك الحنوط، فيخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض، فيصعدون بها فلا يمرون (بها) (١٠) على (ملأ) (١١) من الملائكة إلا قالوا: ما هذا الروح الطيب، فيقولون هذا فلان بن فلان، بأحسن أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا، حتى ينتهون لها إلى السماء الدنيا فيستفتح فيفتح لهم، فيستقبله من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها، حتى ينتهى (به) (١٢) إلى السماء السابعة قال: فيقول اللَّه (تعالى) (١٣): اكتبوا كتاب عبدي في عليين، في السماء الرابعة، وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى. (فتعاد) (١٤) روحه (في) (١٥) جسده ويأتيه ملكان، فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: (ربي) (١٦) ⦗٢٢٨⦘ اللَّه. فيقولان [له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام. فيقولان له: ما (هذا) (١٧) الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هو رسول اللَّه ﷺ فيقولان] (١٨): ما عملك؟ فيقول: قرأت كتاب اللَّه وآمنت به وصدقت به. فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فافرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابًا (إلى) (١٩) الجنة، فيأتيه من طيبها وروحها، ويفسح له في قبره مد بصره، ويأتيه رجل حسن (الوجه) (٢٠) حسن الثياب طيب الريح فيقول: أبشر بالذي (يسرك) (٢١)، هذا يومك الذي كنت توعد فيقول: ومن أنت؟ فوجهك (الوجه) (٢٢) (الذي) (٢٣) يجيء بالخير، فيقول: أنا عملك الصالح، فيقول: رب أقم الساعة، أقم الساعة، حتى أرجع إلى أهلي ومالي. وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح، حتى يجلسون منه مد البصر، ثم قال: ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: (يا) (٢٤) أيتها النفس الخبيثة اخرجي إلى سخط اللَّه وغضبه، قال: (فتفرق) (٢٥) (في) (٢٦) جسده، قال: فتخرج ⦗٢٢٩⦘ (فينقطع) (٢٧) (معها) (٢٨) العروق والعصب كما (تنزع) (٢٩) (السفود) (٣٠) من الصوف المبلول، (فيأخذها فإذا أخذها) (٣١) لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في تلك المسوح، فيخرج منها كأنتن (٣٢) جيفة وجدت (على ظهر) (٣٣) الأرض، فيصعدون بها، فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا: ما هذا الروح الخبيث؟ فيقولون: فلان بن فلان باقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا، حتى ينتهي به إلى سماء الدنيا فيستفتحون فلا يفتح (له) (٣٤). ثم قرأ رسول اللَّه ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [الأعراف: ٤٠]. قال: فيقول اللَّه ﷿: اكتبوا كتاب عبدي في سجين في الأرض السفلى، وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى. فتطرح روحه طرحًا، قال ثم قرأ رسول اللَّه ﷺ: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: ٣١]، قال: (فتعاد) (٣٥) روحه في جسده ويأتيه (الملكان) (٣٦) (فيجلسانه) (٣٧) فيقولان له: من ربك ⦗٢٣٠⦘ فيقول: هاه هاه لا أدري، (فيقولان) (٣٨) له: (و) (٣٩) ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، قال: (فينادي) (٤٠) مناد من السماء: افرشوا له من النار (وألبسوه) (٤١) من النار وافتحوا له بابًا إلى النار. قال: فيأتيه من حرها وسمومها ويضيق عليه قبره حتى (تختلف) (٤٢) (عليه) (٤٣) أضلاعه، ويأتيه رجل قبيح (الوجه وقبيح) (٤٤) الثياب منتن الريح فيقول: أبشر بالذي يسووك، هذا يومك الذي كنت توعد، فيقول: من أنت فوجهك الوجه الذي يجيء بالشر فيقول: أنا عملك الخبيث، (فيقول) (٤٥) رب لا (تقمِ) (٤٦) الساعة رب لا تقم الساعة" (٤٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک انصاری کے جنازے میں گئے جب ہم قبر پر پہنچے اور لحد ابھی تک تیار نہ ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد اس طرح بیٹھ گئے جس طرح ہمارے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا لوگو ! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو ! دو یا تین بار یہ فرمایا پھر فرمایا مؤمن بندے کا جب دنیا سے تعلق ختم ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ (جانے) ہونے کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ان کے ساتھ (پاس) جنت کے کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پاکیزہ نفس ! اللہ کی رضا اور اس کی مغفرت (کے سایہ) میں نکل تو وہ روح اس طرح بہہ نکلتی ہے جس طرح مشکیزہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے پھر وہ اس کو پکڑ لیتا ہے جب اس کو پکڑتا ہے تو پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی اس کو نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ اس کو کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں اس میں سے پاکیزہ مشک کی خوشبو نکلتی ہے جیسی خوشبو زمین میں پائی جاتی ہے۔ پھر وہ فرشتے اس پاکیزہ روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں اور وہ جس فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون ہے ؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں اسے اچھے نام کے ساتھ پکارتے ہیں جو دنیا میں اس کا اچھا اور خوبصورت نام تھا، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں پھر وہ فرشتے دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ساتویں آسمان تک لے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کی کتاب چوتھے آسمان پر علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو بیشک اسی میں سے میں نے ان کو پیدا کیا تھا اور اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی میں سے دوبارہ (قیامت کے دن) نکالوں گا۔ پھر اس کی روح کو جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے پھر اس سے پوچھتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس کے متعلق تو کیا جانتا ہے ؟ وہ کہے گا میں نے اللہ کی کتاب کی تلاوت کی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ پھر آسمان سے ایک منادی ندا دے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے اس کے لیے جنت سے بچھونا بچھا دو اور جنت کا لباس اس کو پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو پس اس کے لیے جنت کی خوشبو اور ہوا آئے گی اور اس کی قبر کو تاحد نگاہ وسیع کردیا جائے گا اس کے پاس خوبصورت چہرے خوبصورت کپڑے اور خوبصورت خوشبو والا شخص آئے گا وہ کہے گا خوشخبری ہے ان نعمتوں کی جو تجھ کو خوش کردیں گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ شخص پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ بھلائی اور خیر کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف متوجہ ہوگا اور کہے گا میں تیرا نیک عمل ہوں وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! قیامت قائم فرما ! اے میرے رب ! قیامت قائم فرما تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ جاؤں۔ اور جب کافر بندے کا دنیا سے تعلق ختم ہو رہا ہوتا ہے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ساتھ پرانے کمبل ہوتے ہیں اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ کی ناراضگی اور غصہ میں نکل، فرمایا روح اس کے جسم میں جدا جدا ہو کر نکلتی ہے وہ اس طرح نکلتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے پٹھے اور رگیں کٹ جاتے ہیں جیسے سیخ کو گیلی روئی میں سے کھینچ کر نکالا جائے پھر وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں جب اس کو پکڑتے ہیں تو پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی اس کو نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اس کمبل میں ڈال دیتے ہیں اس میں مردار کی سی بدبو نکلتی ہے جیسی بدبو زمین پر پائی جاتی ہے پھر وہ فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں وہ فرشتوں کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ دریافت کرتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے اس برے نام سے اس کو پکارتے ہیں جس نام سے وہ دنیا میں پکارا

حواشی
(١) في [ص]: (ثنا).
(٢) في [أ]: (وما).
(٣) في [ص]: (استعيذ).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) في [ص]: (فيخرج).
(٦) في [ص]: (يسيل).
(٧) في [أ، ص]: (الطرة).
(٨) في [ص، ز]: زيادة (فيأخذها).
(٩) في [ص، ز]: (أخذها).
(١٠) سقط من: [ص].
(١١) في [ص]: (ما)، وفي [أ، هـ]: (ملك).
(١٢) سقط من: [ز].
(١٣) زيادة في [أ، ب، ز، ص].
(١٤) في [ص]: (فيعاد).
(١٥) في [ز]: (ف).
(١٦) سقط من: [ب].
(١٧) في [ص]: (هيذا).
(١٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٩) في [ب]: (من).
(٢٠) في [ص]: (وجه).
(٢١) في [ص]: (فيسترك)، وفي [هـ]: (يسوؤك).
(٢٢) في [ص]: (وجه).
(٢٣) سقط من: [ص، ز].
(٢٤) سقط من: [ص].
(٢٥) في [أ، ب، ص]: (فيفرق).
(٢٦) سقط من: [ص].
(٢٧) في [ص، ز]: (يقطع)، وفي [س]: (تقطع).
(٢٨) في [ب]: (بها).
(٢٩) في [ص]: (ينزع)، وفي [س]: (ينتزع).
(٣٠) في [ب]: (التنفود).
(٣١) في [هـ]: (فيأخذوها فإذا أخذها).
(٣٢) في [هـ]: زيادة (ريح).
(٣٣) سقط من: [أ].
(٣٤) في [أ، ب]: (لهم).
(٣٥) في [ص]: (فيعاد).
(٣٦) في [ب]: (مكان)، وفي [ز]: (الملكان).
(٣٧) في [ص]: (فتجلسانه).
(٣٨) في [ز]: (ويقولان)، وكذلك في: [ص].
(٣٩) سقط من: [أ، ص، ز].
(٤٠) في [أ، ب]: (فنادى).
(٤١) في [ص]: (وأكسوه).
(٤٢) في [ص]: (يخلتف).
(٤٣) في [ص، ز]: (فيه).
(٤٤) سقط من: [أ، ب، ز].
(٤٥) سقط من: [أ].
(٤٦) في [ص]: (يقم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12432
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أو بعضه أحمد (١٨٥٣٤)، وأبو داود (٤٧٥٣)، والنسائي ٤/ ٧٨، وابن ماجة (١٥٤٩)، والحاكم ١/ ٣٧، وهناد في الزهد (٣٣٩)، والطيالسي (٧٥٣)، وابن جرير في التفسير (٢٠٧٦٤)، والآجري في الشريعة ص ٣٦٧، واللالكائي (٢١٤٠)، وعثمان بن سعيد في الرد على الجهمية ص ٢٩، وابن خزيمة في التوحيد (ص ١١٩)، وابن منده في الإيمان (١٠٦٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (٣٩٥)، وعبد الرزاق (٦٧٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12432، ترقيم محمد عوامة 12185)