حدیث نمبر: 12418
١٢٤١٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: مر النبي ﷺ بقبرين فقال: "إنهما ليعذبان وما يعذبان في (كبير) (١) أما أحدهما فكان لا (يستتر) (٢) من البول، وأما الآخر فكان يمشي (بالنميمة) (٣) "، ثم (أخذ) (٤) جريدة رطبة فشقها نصفين، ثم غرس في كل قبر واحدة فقالوا: يا رسول اللَّه ﷺ لم فعلت هذا؟ قال: "لعله (أن) (٥) يخفف عنهما ما لم ييبسا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور ان کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی گیلی ٹہنی لی اور اس کو چیر کردو کیا اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک گاڑھ دی، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیوں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شاید کہ ان کے عذاب میں کمی کردی جائے جب تک یہ گیلی رہیں۔

حواشی
(١) في [ص]: (كثير).
(٢) في [ص]: (يستبرء)، والمشهور من رواية أبي معاوية: (يستتر).
(٣) في [ص]: (النميمه).
(٤) في [أ، ب]: (أخرج).
(٥) زيادة في [ز، ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12418
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٦١)، ومسلم (٢٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12418، ترقيم محمد عوامة 12171)