مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت وعليه الدين (من) قال: لا (يصلى) عليه حتى (يضمن) دينه باب: کوئی شخص فوت ہو جائے لیکن اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض نہ ادا کر لیا جائے نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی
١٢٣٨٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة عن إياس بن سلمة عن أبيه أن النبي ﷺ أتي بجنازة (رجل) (١) من الأنصار ليصلي عليه فقال: "هل ترك شيئًا؟ " قالوا: لا، قال: "هل عليه دين؟ "، قالوا: نعم عليه ديناران، قال: "صلوا على صاحبكم"، قال أبو قتادة: هما عليَّ يا رسول اللَّه ﷺ (قال) (٢): ⦗٢٠٥⦘ فصلى عليه النبي ﷺ (٣).حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ اس کے ذمہ دو دینار قرض ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے ساتھی کا جنازہ خود ہی ادا کرو، حضرت ابو قتادہ نے عرض کیا : وہ میرے ذمہ ہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ ادا فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ایاس نے بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب حضرت ابو قتادہ سے ملاقات ہوئی تو دریافت فرمایا : ان دو دیناروں کا کیا بنا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے وہ دینار ادا کردیے۔