مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت وعليه الدين (من) قال: لا (يصلى) عليه حتى (يضمن) دينه باب: کوئی شخص فوت ہو جائے لیکن اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض نہ ادا کر لیا جائے نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی
١٢٣٨٥ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا محمد بن عمرو عن سعيد بن أبي (سعيد) (١) المقبري عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه قال: أتي رسول اللَّه ﷺ بجنازة ليصلي عليها فقال: "عليه دين؟ " قالوا: نعم ديناران. قال: " (هل) (٢) ترك لهما وفاء"، قالوا: لا، قال: "فصلوا على صاحبكم". قال أبو قتادة: هما عليَّ يا رسول اللَّه، فصلى عليه النبي ﷺ (٣).حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکے ؟ عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ میرے ذمہ ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔