حدیث نمبر: 12385
١٢٣٨٥ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا محمد بن عمرو عن سعيد بن أبي (سعيد) (١) المقبري عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه قال: أتي رسول اللَّه ﷺ بجنازة ليصلي عليها فقال: "عليه دين؟ " قالوا: نعم ديناران. قال: " (هل) (٢) ترك لهما وفاء"، قالوا: لا، قال: "فصلوا على صاحبكم". قال أبو قتادة: هما عليَّ يا رسول اللَّه، فصلى عليه النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکے ؟ عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ میرے ذمہ ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ص، ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12385
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، فظاهر الإسناد أنه حسن، لكن نفى بعضهم سماع عبد اللَّه من أبيه، أخرجه أحمد (٢٢٥٦)، والترمذي (١٠٦٩)، وابن ماجه (٢٠٤٧)، والنسائي ٤/ ٦٥، وابن حبان (٣٠٦٠)، وعبد بن حميد (١٩١)، والدارمي (٢٥٩٣)، وعبد الرزاق (١٥٢٥٨)، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٤٧)، والطبراني في الأوسط (٢٥١٢)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٢٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12385، ترقيم محمد عوامة 12141)