مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في (الرجل) يرشح جبينه عند موته باب: موت کے وقت میت کی پیشانی سے پسینہ صاف کرنا
١٢٣٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة أنه دخل على صديق له من النخع يعوده، (فمسح) (١) جبينه، فوجده يرشح فضحك فقال له بعض القوم: ما (يضحكك) (٢) يا أبا شبل قال: ضحكت من قول عبد اللَّه إن نفس ⦗٢٠٢⦘ المؤمن تخرج رشحًا وإنه (قد يكون) (٣) (عمل) (٤) السيئة فيشدد عليه عند الموت ليكون بها، وإن نفس (الكافر) (٥) (و) (٦) الفاجر ليخرج من شدقة كما (تخرج) (٧) نفس الحمار، وإنه قد يكون عمل الحسنة (فهون) (٨) عليه عند الموت ليكون بها (٩).حضرت علقمہ اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جس کو (بلغم کی) بیماری تھی، آپ نے اس کی پیشانی کو چھوا تو پسینہ نکل رہا تھا آپ یہ دیکھ کر ہنس پڑے، لوگوں میں سے بعض نے عرض کیا اے ابو شبل ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا۔ فرمایا : مجھ کو عبداللہ کی بات پر ہنسی آگئی کہ مؤمن کو (جان کنی کے وقت) پسینہ نکلتا ہے تو اس کے کچھ برے عمل ہوتے ہیں تو ان کی وجہ سے اس پر موت کے وقت کچھ سختی ہوتی ہے تا کہ ان برائیوں کا کفارہ بن جائے، اور کافر وفاجر کی روح گدھے کے سانس کی طرح نکلتی ہے، کیونکہ اس کے بھی کچھ اچھے اعمال ہوتے ہیں تو موت کے وقت اس پر آسانی ہوتی ہے تاکہ یہ آسانی ان نیکیوں کا بدلہ ہوجائیں۔