حدیث نمبر: 12374
١٢٣٧٤ - حدثنا ابن نمير (حدثنا) (١) مالك (بن) (٢) مغول عن طلحة عن تميم ⦗٢٠٠⦘ بن سلمة قال: مات منا رجل بغتة فقال (رجل من) (٣) أصحاب النبي ﷺ: أخذة غضب! -فذكرته لإبراهيم- وقل ما (كنا) (٤) (نذكر) (٥) لإبراهيم حديثًا إلا وجدنا عنده فيه فقال: كانوا يكرهون أخذة (كأخذة) (٦) الأسف.مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص اچانک فوت ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا غصہ کی حالت میں اٹھایا گیا ہے، میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ہم ابراہیم سے کوئی حدیث ذکر کرتے مگر ان کے پاس اس کو پالیتے، آپ نے فرمایا : صحابہ کرام ناپسند کرتے تھے اچانک اٹھائے جانے کو (موت کو) جس طرح غصب کرنے والا اچانک اٹھا لیا جاتا ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: زيادة (رجل من).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (كان).
(٥) في [ب، هـ]: (يذكر)، وفي [ص]: (نذتكر).
(٦) في [ب]: (كأخذ).