مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يقتل نفسه والنفساء من الزنى هل يصلى عليهم باب: کوئی شخص خود کشی کر لے یا عورت کو زنا کے بعد نفاس آئے (بچہ ہو جائے) تو کیا ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 12228
١٢٢٢٨ - حدثنا شريك عن سماك عن جابر بن سمرة أن رجلًا من أصحاب النبي ﷺ أصابته جراحة (فآلمته) (١)، (فدب) (٢) إلى (قرن له) (٣) في سيفه، فأخذ مشقصًا فقتل به نفسه، فلم يصل (عليه النبي ﷺ) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ سے مروی ہے کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ایک شخص کو زخم لگا جس سے اس کو بہت تکلیف ہوئی، تو وہ پہنچا اپنی تلوار کے کنارے کی طرف اور اس کے پھل سے اپنے آپ کو قتل کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں فرمائی۔ حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی نماز جنازہ ان سے ادب حاصل کرنے کے لیے چھوڑی۔
حواشی
(١) في [ز]: (فالمت به)، وفي [هـ]: (فامتدت به).
(٢) في [ص]: (فذب)، وفي: [هـ] (قرت).
(٣) في [ص]: (قول لي)، وفي [أ، ب، ز]: (قرن له).
(٤) في [ص، ز]: (فلم يصل النبي ﷺ عليه).