مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يوصي أن يدفن في الموضع باب: کوئی شخص اگر یہ وصیت کرے کہ مجھے فلاں جگہ دفن کیا جائے
حدیث نمبر: 12219
١٢٢١٩ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عمرو بن ميمون أن عمر قال: لعبد اللَّه بن عمر: اذهب إلى عائشة فسلم وقل يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، فأتاها عبد اللَّه فوجدها قاعدة تبكي فسلم ثم قال: يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، فقالت: قد كنت واللَّه أريده (لنفسي) (١) ولأوثرنه اليوم على نفسي (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ان کو میرا سلام دو اور عرض کرو عمر اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اس کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے، حضرت عبد اللہ جب ان کے پاس آئے ان کو بیٹھ کر روتے ہوئے پایا، آپ نے ان پر سلام عرض کیا اور فرمایا حضرت عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! وہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن میں آج حضرت عمر کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (لنفسه).
(٢) منقطع؛ عمرو بن ميمون لم يسمع عمر.