مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت له القرابة (المشرك) يحضره أم لا باب: کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
حدیث نمبر: 12209
١٢٢٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: لما مات أبو طالب (جاء) (١) (علي) (٢) إلى النبي ﷺ فقال: إن عمك الشيخ الكافر قد مات فما ترى فيه؟ قال: "أرى أن تغسله (وتنحيه) " (٣)، وأمره بالغسل (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا آپ کا کافر چچا فوت ہوگیا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو غسل دو اور دفنا دو ، اور ان کو (بعد میں) غسل کرنے کا حکم فرمایا۔
حواشی
(١) في [ص]: (حباء).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [ب]: بياض، وفي [س]: (تجنه)، وهكذا في تلخيص الحبير ٢/ ١١٤، ونصب الراية ٢/ ٢٨١، وتحفة الأحوذي ٤/ ٦١.