مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت له القرابة (المشرك) يحضره أم لا باب: کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
حدیث نمبر: 12206
١٢٢٠٦ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: ماتت أم رجل من (ثقيف) (١) وهي نصرانية (فسأل) (٢) ابن (مغفل) (٣) فقال: إنّي أحب أن (أ) (٤) حضرها ولا أتبعها قال: اركب دابة وسر أمامها علوة فإنك إذا سرت أمامها فلست معها (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص کی والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی۔ اس نے حضرت ابن معقل سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا مجھے تو یہ پسند ہے کہ اس کے جنازے میں حاضر ہوا جائے لیکن اس کے جنازے کے ساتھ (پیچھے) نہ چلا جائے، پھر فرمایا : سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے تین سے چار سو گز چلو کیونکہ جب تم اس کے آگے چلو گے تو اس کے ساتھ شمار نہیں ہو گے۔
حواشی
(١) في [ب]: (الثقيف).
(٢) في [ص، أ]: (فسألت).
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: (معقل).
(٤) سقط من: [ص].