حدیث نمبر: 12206
١٢٢٠٦ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: ماتت أم رجل من (ثقيف) (١) وهي نصرانية (فسأل) (٢) ابن (مغفل) (٣) فقال: إنّي أحب أن (أ) (٤) حضرها ولا أتبعها قال: اركب دابة وسر أمامها علوة فإنك إذا سرت أمامها فلست معها (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص کی والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی۔ اس نے حضرت ابن معقل سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا مجھے تو یہ پسند ہے کہ اس کے جنازے میں حاضر ہوا جائے لیکن اس کے جنازے کے ساتھ (پیچھے) نہ چلا جائے، پھر فرمایا : سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے تین سے چار سو گز چلو کیونکہ جب تم اس کے آگے چلو گے تو اس کے ساتھ شمار نہیں ہو گے۔

حواشی
(١) في [ب]: (الثقيف).
(٢) في [ص، أ]: (فسألت).
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: (معقل).
(٤) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12206
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، ولم يدرك ابن مغفل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12206، ترقيم محمد عوامة 11967)