١٢١٧٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (أبي) (١) فروة الهمداني عن الغيرة بن سبيع عن (ابن) (٢) بريدة عن أبيه قال: جالست النبي ﷺ في المجلس فرأيته حزينا فقال له رجل من القوم: ما لك يا رسول اللَّه كأنك حزين؟ قال: "ذكرت أمي"، ثم قال رسول اللَّه ﷺ: "كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي أن تأكلوها إلا ثلاثة فكلوا وأطعموا وادخروا ما بدا لكم، ونهيتكم عن زيارة القبور فمن أراد أن يزور قبر أمه فليزره، وكنت نهيتكم عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير فاجتنبوا كل مسكر (وانبذوا) (٣) فيما بدا لكم" (٤).حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے اور انتہائی غمگین تھے، لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وجہ ہے آپ غمگین دکھائی دے رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں اپنی والدہ کو یاد کر رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پس (اب) تم خود کھاؤ اور دوسروں کو کھلاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس جو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا چاہتا ہے وہ زیارت کرے، اور میں نے تمہیں کدو کے برتن سے، سبز رنگ کے برتن سے، سبز رنگ کے روغن سے رنگے ہوئے برتن سے اور پیالہ نما گڑھا کی ہوئی لکڑی جس میں کھجور کی شراب بنائی جاتی ہے اس برتن سے منع کیا تھا، پس تم ہر نشہ والی چیز سے اجتناب کرو اور باقی جتنی چاہو پیؤ، (جس میں نشہ نہ ہو) ۔