١٢١٧٠ - حدثنا عيسى بن يونس (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عبد اللَّه بن أبي مليكة قال: توفي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحبشي -قال ابن جريج: الحبشي (على) (٣) إثني عشر ميلًا من مكة-، فدفن بمكة، فلما قدمت عائشة أتت قبره فقالت (٤): (و) (٥) كنا كندماني (جذيمة) (٦) حقبة … من الدهر حتى قيل (لن) (٧) يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكًا … لطول اجتماع لم نبت ليلة معًا ⦗١٣٩⦘ ثم قالت: أما واللَّه لو حضرتك لدفنتك حيث (مت) (٨)، ولو شهدتك ما زرتك (٩).حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کا حبشی مقام پر انتقال ہوا، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ جبشی مکہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے۔ ان کو مکہ میں دفن کیا گیا جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کی قبر پر تشریف لائیں اور یہ اشعار پڑھے۔ ہم لمبے زمانے سے مضبوط جدا نہ ہونے والے ساتھی تھے یہاں تک کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم کبھی جدا ہوں گے ہی نہیں۔ لیکن جب جدا ہوئے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں نے اور مالک نے اس لمبے اجتماع کے باوجود بھی ایک رات بھی اکٹھے نہ گزاری ہو۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں اس وقت حاضر ہوتی تو جہاں انتقال ہوا تھا وہیں دفن کرواتی اور اگر میں اس کے جنازے میں حاضر ہوتی تو اس کی قبر کی زیارت نہ کرتی۔