مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما ذكر في (التسليم) على القبور إذا مر بها من رخص في ذلك باب: جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 12141
١٢١٤١ - حدثنا ابن فضيل عن الأجلح عن عبد اللَّه بن شريك عن جندب الأزدي قال: خرجنا مع سلمان إلى (الحيرة) (١) حتى إذا انتهينا إلى القبور التفت عن يمينه فقال: السلام عليكم يا أهل الديار من المؤمنين والمؤمنات، أنتم لنا (فرط) (٢) [ونحن (لكم) (٣) تبع] (٤)، وإنا على آثاركم واردون (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب الازدی فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ حیرہ کی طرف گیا جب ہم قبرستان پہنچے تو آپ اپنی داہنی جانب متوجہ ہوئے اور دعا پڑھی : اس جگہ کے مومن مردوں اور عورتوں ! تم پر سلامتی ہو، تم پہلے چلے گئے ہم بعد میں آئیں گے اور تمہارے نشان قدم پر چلتے ہوئے آئیں گے۔
حواشی
(١) في [هـ، أ، ب، هـ]: (الحرة).
(٢) في [ز]: (فرطا).
(٣) في [ب]: (بكم).
(٤) سقط من: [ص].