حدیث نمبر: 12123
١٢١٢٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ثابت بن زيد قال: حدثتني حمادة عن أنيسة بنت زيد (١) بن أرقم (قال) (٢): (قالت) (٣): مات ابن لزيد يقال له سويد، فاشترى غلام له أو جارية جصًا وآجرًا، فقال له زيد: ما تريد إلى هذا؟ قال: أردت أن أبني قبره وأجصصه، قال: (جفوت) (٤) (ولغوت) (٥) (لا) (٦) تقربه (شيئًا) (٧) مسته النار (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت زید کے بیٹے حضرت سوید کا انتقال ہوا تو ان کے لیے ایک غلام یا باندی نے چونا اور اینٹیں (پکی) خریدیں۔ حضرت زید نے فرمایا ان چیزوں سے کیا کرنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا قبر پر عمارت بنانے اور اس کو پکی کرنے کا ارادہ ہے، آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو، ہر وہ چیز جس کو آگ نے چھوا ہے اس کو اس میت کے قریب مت لاؤ۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ص]: زيادة (عن زيد).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ب، ص].
(٤) في [ص]: (جفيرت)، وفي معجم الطبراني ٥/ ٢١٢ (٥١٢٧) في قصة مشابهة: (حقرت ونقرت)، وانظر: مجمع الزوائد ٧/ ٣٣٣.
(٥) في [ص، ز]: (وتفوت)، وفي [أ]: (يعرب).
(٦) في [ص]: (ولا).
(٧) في [أ، ب، ز]: (شيء)، وفي [ص]: (بشيء).
(٨) مجهول؛ لجهالة حمادة.