حدیث نمبر: 12115
١٢١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن ثمامة قال: خرجنا مع فضالة بن عبيد إلى أرض الروم قال: وكان (عاملًا) (١) لمعاوية على الدرب فأصيب ابن (عم) (٢) (لنا) (٣) (يقال) (٤) له نافع، فصلى عليه فضالة وقام على (حفرته) (٥) (حتى) (٦) واراه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثمامہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت فضالہ بن عبید کے ساتھ ملک روم کی طرف گئے، آپ حضرت معاویہ کی طرف سے راستوں کے نگران تھے، آپ کے چچا کے بیٹے حضرت نافع کا انتقال ہوا تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر پر کھڑے رہے جب تک کہ ان کو دفنا کر لوگ فارغ نہیں ہوگئے۔

حواشی
(١) في [أ]: (عامل).
(٢) في [أ، ب، ص]: (عمر).
(٣) في [ص]: (أنا).
(٤) في [ص]: (فقال).
(٥) في [أ]: (حمرته)، وفي [هـ]: (حضرته).
(٦) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12115
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بالسماع عند أحمد (٢٣٩٣٦)، وأخرجه مسلم (٩٦٨)، وأحمد (٢٣٩٣٤)، وأبو داود (٣٢١٩)، والنسائي ٤/ ٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12115، ترقيم محمد عوامة 11880)