مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الدعاء للميت بعد ما يدفن ويسوي عليه باب: میت کو دفنانے اور اس پر مٹی برابر کرنے کے بعد دعا کرنا
١٢٠٦٢ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عمير بن سعيد أن عليًّا كبر على يزيد أربعًا قال: اللهم عبدك وابن عبدك نزل بك اليوم [وأنت خير (منزول) (١) به، ⦗١٠٨⦘ اللهم وسع له مدخله واغفر ذنبه فإنا لا نعلم إلا خيرًا] (٢) وأنت أعلم به (٣).حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت یزید کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں پڑھیں پھر یہ دعا پڑھی : اللَّہُمَّ عَبْدُک وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ ، وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ ، اللَّہُمَّ وَسِّعْ لَہُ مُدْخَلَہُ ، وَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کا بہترین ٹھکانہ ہے، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اس کے گناہوں کو معاف فرما، ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “