حدیث نمبر: 12004
١٢٠٠٤ - حدثنا حفص عن عاصم عن حفصة قالت: أوصت عائشة فقالت: ⦗٩٤⦘ إذا (سوَّى) (١) (علَيَّ) (٢) ذكوان قبري فهو حر [(أرادت) (٣) أن يدخل قبرها، وكان ذكوان قد دخل] (٤) قبرها وهو مملوك (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ نے وصیت فرمائی تھی کہ جس وقت ذکوان میری قبر برابر کر دے اس وقت وہ آزاد ہے، انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ ذکوان ان کو قبر میں اتارے، (ان کی وفات کے بعد) حضرت ذکوان نے ان کو قبر میں اتارا اور اس وقت وہ غلام تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (استوى).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [أ]: كلمة غير واضحة.
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [].
(٥) منقطع، حفصة بنت سيرين لم تدرك ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12004، ترقيم محمد عوامة 11770)