مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في اللحد للميت (من أمر به) وكره الشق باب: میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 11984
١١٩٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: اجتمع أصحاب النبي ﷺ حين مات النبي ﷺ، فكان الرجل يلحد (والآخر) (١) يشق، فقالوا: اللهم (خير) (٢) له، فطلع الذي كان يلحد فلحد له (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو تمام صحابہ کرام جمع ہوگئے، ایک شخص تھا جو لحد والی قبریں بناتا تھا اور دوسرا شخص شق والی قبریں، صحابہ کرام نے دعا فرمائی اے اللہ ! ان میں سے کسی ایک کو چن لے (اختیار فرما) تو جو شخص لحد والی قبریں کھودتا تھا وہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد والی قبر کھودی۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (وآخر).
(٢) في [ص]: (خيره)؛ وفي [ق]: (خر).
(٣) منقطع؛ القاسم بن محمد لم يدرك وفاة النبي ﷺ.