مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الميت ما يتبعه من صلاة الناس عليه باب: لوگوں کی دعائے جنازہ میں سے کیا چیز میت تک پہنچتی ہے
١١٩٧٥ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن أبي بكار قال: صليت مع أبي المليح على جنازة فقال: سووا صفوفكم ولتحسن شفاعتكم ولو خيرت رجلًا لاخترته، (قال: أبو المليح) (١) (حدثني) (٢) عبد اللَّه بن (سليل) (٣) عن بعض أزواج النبي ﷺ (٤) ⦗٨٧⦘ ميمونة (كان) (٥) (أخاها) (٦) من الرضاعة أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (ما) (٧) من رجل مسلم يصلي عليه أُمَّة إلا شفعوا فيه"، قال أبو المليح: والأمة ما بين الأربعين إلى (المائة) (٨) (٩).حضرت ابی بکار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ملیح کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی، آپ نے فرمایا صفیں درست کرلو اور اس کے لیے تم خوب اچھے طریقے سے شفاعت (دعائے مغفرت) کرو۔ اگر مجھے کسی شخص کا اختیار دیا جاتا تو میں اسکو اختیار کرتا۔ مجھ سے حضرت عبد اللہ بن السلیل نے بیان کیا کہ حضرت میمونہ سے مروی ہے جو ان کے رضاعی بھائی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی مسلمان جس کی نماز جنازہ ایک جماعت ادا کرے مگر اس کی شفاعت کردی جاتی ہے۔ حضرت ابو الملیح فرماتے ہیں جماعت سے مراد چالیس سے سو تک لوگ ہیں۔