حدیث نمبر: 1195
١١٩٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد اللَّه بن شداد قال: ﴿فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا﴾ [النمل: ٤٤] فإذا امرأة شعراء قال: فقال سليمان: ما يذهب هذا؟ قالوا: النورة، قال: فجعلت النورة يومئذ.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ بلقیس کی پنڈلی پر بہت سے بال تھے۔ حضرت سلیمان نے پوچھا کہ یہ بال کیسے ختم ہوں گے ؟ لوگوں نے بتایا کہ نورہ کے ذریعہ، اس کے بعد سے نورہ بالوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا۔