حدیث نمبر: 11865
١١٨٦٥ - حدثنا (عائذ) (١) بن حبيب عن يحيى بن سعيد عن واقد بن عمرو بن (سعد) (٢) بن معاذ قال: كنت في جنازة فلم أجلس حتى وضعت [(على) (٣) الأرض، ثم أتيت نافع بن جبير فجلست إليه فقال: ما لي لم أرك جلست حتى وضعت الجنازة؟ فقلت: ذلك الحديث الذي بلغني] (٤) عن أبي سعيد، فقال نافع: حدثني مسعود بن الحكم أن عليا حدثه أن رسول اللَّه ﷺ قام ثم قعد (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں تھا، جب تک جنازہ نہ رکھ دیا گیا میں نہیں بیٹھا، پھر میں حضرت نافع بن جبیر کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا بات ہے کہ جب تک جنازہ نہیں رکھا گیا آپ بیٹھے نہیں ؟ میں نے کہا اس لیے کہ مجھے حدیث پہنچی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے (پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا) پھر بیٹھے۔

حواشی
(١) في [ب]: (فايز).
(٢) في [ص]: (سعيد).
(٣) في [أ، ب، ز]: (إلى)، وسقطت من [ص].
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ص]، وفي [س، ط]: (ذاك لحديث بلغني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11865
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٦٢) وأحمد (٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11865، ترقيم محمد عوامة 11638)