حدیث نمبر: 11681
١١٦٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: لما مات خالد بن الوليد (اجتمعن) (١) نسوة بني الغيرة يبكين عليه؛ فقيل لعمر: أرسل إليهن فإنهنَّ لا يبلغك عنهن شيء تكرهه، قال: فقال عمر: وما عليهن أن يهرقن من دموعهن على أبي سليمان ما لم يكن نقع أو لقلقة (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید کا انتقال ہوا تو بنی مغیرہ کی عورتوں نے جمع ہو کر رونا شروع کردیا۔ لوگوں نے حضرت عمر سے عرض کیا۔ آپ ان کی طرف پیغام بھیجیں اور ان کو اس سے منع کریں کیا آپ تک ان کی طرف سے وہ چیز نہیں پہنچی جو ناپسندیدہ ہو ! حضرت عمر نے فرمایا ان پر آنسو بہانے میں کوئی گناہ نہیں جو وہ ابو سلیمان پر بہا رہی ہیں جب تک کہ وہ اپنے سروں پر مٹی نہ ڈالیں اور بہت زیادہ چیخیں اور شور نہ مچائیں۔

حواشی
(١) في [أ]: (لاجتمعن، أجمعن)، (وأجمعوا)، وفي [هـ]: (واجتمعن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11681
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11681، ترقيم محمد عوامة 11460)