حدیث نمبر: 11632
١١٦٣٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن (أبي) (١) إسحاق عن (جبار) (٢) الطائي قال: شهدت جنازة أم مصعب بن الزبير وفيها ابن عباس على أتان له، فمر (وحاذى) (٣) عبد اللَّه بن عمرو وابن عمر وقال: فسمعوا أصوات صوائح، قال: ⦗٥٥٦⦘ قلت: يا (أبا) (٤) عباس (يُصنع) (٥) هذا وأنت هاهنا؟ قال: دعنا منك يا (جبار) (٦) فإن اللَّه أضحك وأبكى (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جبار الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام مصعب بن زبیر کے جنازہ میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی سفید گدھی پر سوار موجود تھے جس کو لگام پکڑ کر چلا جا رہا تھا۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے تو انہوں نے چلانے اور چیخنے کی آواز سنی تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا یہاں پر یہ ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی یہاں موجود ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے جبارھم سے خود کو دور رکھو (ہم اس کے مکلف نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) في [هـ، ص]: (حبان)، وانظر: ما تقدم برقم (١١٥٦١).
(٣) في [ص، هـ]: (أحاذ).
(٤) في [ف]: (ابن).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (تصنع).
(٦) في [أ، هـ]: (حبان).
(٧) مجهول؛ لجهالة جبار الطائي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11632
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11632، ترقيم محمد عوامة 11412)