مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في خروج النساء مع الجنازة، من كرهه؟ باب: بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 11624
١١٦٢٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن موسى بن (عبد اللَّه) (١) بن (يزيد) (٢) قال: كان أبي إذا كانت دار فيها جنازة أمر بالباب ففتح فدخل العُوَّاد، فإذا (خرج) (٣) بالجنازة أمر بباب الدار فأغلق، فلا تتبعها (امرأة) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ جب میرے والد صاحب کسی گھر میں ہوتے جس میں جنازہ ہوتا تو حکم دیتے دروازے (والے کو) تو وہ کھول دیا جاتا اور سارنگی والے داخل ہوجاتے، جب جنازہ لے کر نکلا جاتا تو گھر کے دروازے (والوں کو) حکم دیتے تو وہ بند کردیئے جاتے۔ پس عورتیں جنازہ کے ساتھ نہ آتیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ص، هـ]: (زيد).
(٣) في [أ، ب، ص، ط، هـ]: (أخرج).
(٤) في [ص، ز، ص]: (المرأة).