مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
(من كان يحب المشي خلف الجنازة) باب: جو شخص جنازے کے پیچھے چلنے کو پسند کرتا ہے
١١٥٧٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن أبزى قال: كنت في جنازة وأبو بكر وعمر أمامها وعلي يمشي خلفها قال: فجئت إلى عليّ فقلت له: المشي خلفها أفضل أو المشي أمامها، فإني أراك تمشي خلفها وهذان يمشيان أمامها، قال: فقال لي: لقد علمنا أن المشي خلفها أفضل من أمامها مثل صلاة الجماعة على الفذ، ولكنهما يسيران ميسران يحبان أن ييسرا على الناس (١).حضرت ابن البزی فرماتے ہیں کہ میں جنازہ میں تھا، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر اس جنازہ کے آگے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے چل رہے تھے۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا جنازے کے پیچھے چلنا افضل ہے یا آگے ؟ کیونکہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ پیچھے چل رہے ہیں اور یہ دونوں حضرات آگے چل رہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنازے کے پیچھے چلنا اس کے آگے چلنے سے افضل ہے، جیسے اکیلے شخص کی نماز، وہ دونوں حضرات آسانی کیلئے آگے چل رہے ہیں۔ وہ لوگوں پر آسانی کو پسند کرتے ہیں۔