مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في الأذان بالجنازة باب: بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
١١٥٥٣ - حدثنا سعيد بن يحيى (الحميري) (١) عن سفيان بن حسين عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعود فقراء أهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امرأة من أهل العوالي فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا حضرت فآذنوني (بها) (٢) " قال: فأتوه (ليؤذنوه) (٣) فوجدوه نائمًا وقد ذهب من الليل فكرهوا أن يوقظوه، وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الأرض، فلما أصبح سأل عنها فقالوا: يا رسول اللَّه أتيناك لنؤذنك بها فوجدناك نائمًا فكرهنا أن نوقظك، وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الأرض، قال: فدفناها (هناك) (٤)، فمشى رسول اللَّه ﷺ إلى قبرها فصلى عليها وكبر أربعًا (٥).حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے ، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند سے جگایا جائے، انہوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔