مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الرجل يقول خلف الميت: استغفروا له يغفر الله لكم باب: کوئی شخص جنازے کے پیچھے یہ کہتا ہو چلے کہ اسکے لیے استغفار کرو اللہ تمہاری مغفرت کرے گا، اس کا کیا حکم ہے
حدیث نمبر: 11528
١١٥٢٨ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن الربيع بن أبي (راشد) (١) أن سعيد بن جبير سمع رجلًا يقول في جنازة استغفروا له غفر اللَّه لكم فغضب.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن ابی راشد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک شخص کو جنازہ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کیلئے استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا، تو آپ اس شخص کو غصہ ہوئے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أزهر)، وفي [أ، ب]: (زهر). وانظر: تفسير الطبري ٢/ ٥٦٨، و ١٦/ ٣٩ و ٢٧/ ٢٠٥، والمعرفة والتاريخ ٣/ ١٨٨، وتفسير الثوري ١/ ١٧٩، ومصنف عبد الرزاق (١٩٧٣)، والكنى ١/ ٤٨١، والحلية ٤/ ٢٨٤ و ٥/ ٧٥، وتاريخ دمشق ٤٤/ ١٩٧، وتغليق التعليق ٢/ ٣٧٥، وعلل الدارقطني ٤/ ١٢٥، وشعب الإيمان للبيهقي (٧١٨٧) والمنتظم ٧/ ٢١٨ و ٧/ ٣١٦.