مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من قال ليس على غاسل الميت غسل باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اسکو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
حدیث نمبر: 11472
١١٤٧٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (عوف) (١) قال: حدثني (خزاعي) (٢) بن زياد (عن) (٣) عبد اللَّه بن مغفل قال: أوصى عبد اللَّه بن مغفل أن لا يحضره ابن زياد وأن يليني أصحابي فأرسلوا إليّ عائذ بن عمرو وأبا برزة وأناس من أصحابه فما زادوا على أن (كفوا) (٤) (أكمامهم) (٥) وجعلوا ما فضل (عن) (٦) قمصهم في حجزهم فلما فرغوا لم يزيدوا على الوضوء (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خذاعی بن زیاد فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل نے وصیت کی کہ میرے انتقال کے وقت ابن زیاد میرے پاس نہ آئے اور یہ کہ میرے ساتھی ہی میرے پاس رہیں، پس لوگوں نے ان کے شاگردوں میں سے عائذ بن عمر وابو برزہ اور دوسرے لوگوں کو بلایا انہوں نے عبد اللہ بن مغفل کو غسل دینے کے لئے اپنی آستین چڑھائی اور قمیصوں کو سمیٹا اور جب غسل دینے سے فارغ ہوئے تو صرف وضو کیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (عوف) وانظر: التاريخ الكبير ٣/ ٢٢٦، والجرح والتعديل ٣/ ٤٠٣، واللباب في تهذيب الأنساب ١/ ٤٤٠، والمؤتلف والمختلف ١/ ١٧٢، وتاريخ دمشق ٣٧/ ٤٤٨، والمنتظم ٥/ ٢٥٣، وتاريخ الإسلام ٤/ ٢٦٢، وسير أعلام النبلاء ٢/ ٤٨٤.
(٢) في [ص]: (خزائي).
(٣) في [ز]: (بن).
(٤) في [ص]: (لفوا).
(٥) في [أ، ب]: (أكلمتهم)، وفي [ز]: (كهتهم).
(٦) في [ز]: (من).
(٧) مجهول؛ لجهالة خزاعي.