حدیث نمبر: 11465
١١٤٦٥ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن سليمان (بن) (١) (الربيع) (٢) عن سعيد بن جبير قال: غسلت أمي ميتة فقالت: (سل) (٣) لي: هل علي غسل؟ فأتيت ابن عمر؛ فسألته فقال: أنجسا غسلت (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میری والدہ محترمہ نے ایک میت کو غسل دینے کے بعد مجھ سے فرمایا : پوچھ کر بتاؤ کیا میرے ذمہ غسل کرنا ہے ؟ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے دریافت فرمایا : آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ نے کسی ناپاک چیز کو غسل دیا (جو خود غسل کر رہی ہیں) پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے بھی اسی طرح جواب دیا کہ کیا تمہاری والدہ نے ناپاک چیز کو غسل دیا ہے۔

حواشی
(١) كذا في النسخ وهو هكذا في تاريخ ابن معين: (الدوري) ٤/ ٣٧١، وعمدة القاري ٣٧/ ٨، وفي كتب الرجال: (سليمان أبي الربيع)، كما في الجرح والتعديل ٤/ ١٥٢، والثقات ٦/ ٣٨٩، وتاريخ الإسلام ٩/ ٤١٢، والكنى للدولابي ٢/ ٥٤٣، وفتح الباب ١/ ٣١٩، والتاريخ الكبير ٤/ ١٢.
(٢) في [ز]: (ربيع).
(٣) سقطت من [هـ].
(٤) منقطع حكمًا، فيه جهالة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11465
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11465، ترقيم محمد عوامة 11249)