حدیث نمبر: 11390
١١٣٩٠ - حدثنا ابن (حباب) (١) قال: (ثنا) (٢) (محمد) (٣) بن صالح قال: حدثني يزيد بن (زيد) (٤) (مولى) (٥) (أبي) (٦) أسيد عن أبي أسيد قال: أنا مع رسول اللَّه ﷺ على قبر حمزة (فمدت) (٧) (النمرة) (٨) على رأسه (وانكشفت) (٩) رجلاه (فمدت) (١٠) على رجليه فانكشف رأسه فقال رسول اللَّه ﷺ: "ضعوها على رأسه واجعلوا على رجليه من شجر (الحرمل) (١١) " (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسید فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت حمزہ کی لاش کے پاس موجود تھا، کفن والی چادر (جو سفید اور دوسرے رنگوں والی تھی) کو آپ کی سر کی طرف کھچاحض تو آپ کے پاؤں برہنہ ہوگئے، اور اس کو پاؤں پر کیا گیا تو سر برہنہ ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اس کفن کو اس کے سر پر ڈال دو اور پاؤں پر اسید نامی بوٹی کے پتے ڈال دو ۔
حواشی
(١) في [ص]: (حبان)، وفي [هـ، أ، ب]: (حيان).
(٢) في [ز]: (حدثني).
(٣) في [ب]: (أحمد).
(٤) في [ص]: (يزيد).
(٥) في [ص]: (ولي).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [أ، ب]: (فمرت).
(٨) في [أ، ب]: (الغمرة).
(٩) في [ص]: (فانكشفت).
(١٠) في [أ، ب]: (فمرت).
(١١) في [ص]: (الحومل).
(١٢) مجهول؛ لجهالة يزيد بن زيد، أخرجه الطبراني (٢٩٤٠) و ١٩/ ٥٨٧، وابن سعد ٣/ ١٥، والبخاري في التاريخ ٨/ ٣٢٥.