حدیث نمبر: 11375
١١٣٧٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن ابن (أبي) (١) مليكة عن عائشة قالت: قال أبو بكر: في كم كفنتم رسول اللَّه ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب، قال: (فاغسلوا) (٢) ثوبي هذين واشتروا لي ثوبًا من السوق، قالت: إنا موسرون، قال: يا بنية الحي أحق بالجديد من الميت إنما هو للمهلة والصديد (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا ؟ میں نے عرض کیا تین کپڑوں میں آپ نے فرمایا میرے ان دو کپڑوں کو دھو دو اور بازار سے ایک اور کپڑا خرید لو، میں نے عرض کیا ہم آپ کے لیے نیا کپڑا تیار کرلیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مردوں کی بنسبت زندہ نئے کپڑے کے زیادہ حقدار ہیں، بیشک یہ کفن تومردے کی پیپ اور خون کے لیے ہوتا ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ص]: (واغسلوا).