حدیث نمبر: 11374
١١٣٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: لما حضر أبو بكر قال: في كم كفن رسول اللَّه ﷺ؟ قلت: في ثلاثة أثواب ⦗٤٩٥⦘ (سحول) (١)، قال: فنظر إلى ثوب خلق عليه فقال: اغسلوا هذا وزيدوا عليه ثوبين آخرين، فقلت: بل نشتري لك ثيابًا جددًا، (قال) (٢): الحي أحق بالجديد من الميت إنما هي للمهلة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبر کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا ؟ میں نے عرض کیا تین یمنی چادروں میں (کپڑوں میں) آپ نے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں کی طرف دیکھا اور فرمایا اس کو دھو دو اور اس پر دو کپڑوں کا اور اضافہ کردو، میں نے عرض کیا کہ ہم آپ کے لیے دو نئے کپڑے خرید لے تک ہیں، آپ نے فرمایا، نئے کپڑوں کے زیادہ حق دار زندہ لوگ ہیں، بیشک یہ تو مردہ کی پیپ کے لیے ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (سحولية).
(٢) في [ص]: (فقال).