مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في المسك في الحنوط من رخص فيه باب: مشک میں اور خوشبو میں بعض حضرات نے رخصت دی ہے
١١٣٦١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب ومحمد بن سوقة عن الشعبي قال: لما غزا سلمان بلنجر أصاب في (قسمه) (١) صرة من مسك، فلما رجع استودعها (امرأته) (٢)، فلما مرض (مرضه) (٣) الذي مات فيه قال لامرأته وهو يموت: أريني الصرة التي استودعتك، فأتته بها، فقال: ائتني بإناء نظيف، فجاءت ⦗٤٩٢⦘ به (فقال) (٤): (أوجفيه) (٥) ثم انضحي به حولي فإنه يحضرني خلق من خلق اللَّه لا يأكلون الطعام ويجدون الريح وقال: اخرجي عني وتعاهديني، قالت: فخرجت ثم رجعت وقد قضى (٦).حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ جب حضرت سلمان لنجر کے غزوہ میں شریک ہوئے تو غنیمت کی تقسیم میں مشک کی تھیلی ملی، جب وہ واپس آئے تو وہ تھیلی اپنی اہیہغ کے پاس امانت رکھوا دی، پھر جب وہ مریض ہوئے، جس مرض میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : جو تھیلی میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی وہ لا کر مجھے دو ، وہ تھیلی لے کر حاضر ہوگئیں، آپ نے فرمایا اس کو میرے اردگرد چھڑک دو ، کیونکہ میرے اردگرد ایسی مخلوق حاضر ہوتی ہے جو کھاتی (پیتی) نہیں ہے مگر خوشبو (محسوس) کرتے ہیں اور پھر فرمایا اس کو لے جاؤ میرے پاس سے اور مجھ سے عہد کرو، وہ فرماتی ہیں کہ میں نکل گئی پھر جب میں واپس آئی تو آپ کی روح اس دنیا سے کوچ کرچکی تھی۔