١١٣٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن عوف قال: كنت في مجلس (فيه) (١) قسامة بن زهير وأشياخ قد أدركوا عمر بن الخطاب فقال رجل: كانت تحتي امرأة من بني عامر ابن صعصعة وكان يثني عليها (خيرًا) (٢)، فلما كان زمن طاعون (الجارف) (٣) طُعنت، فلما ثقلت قالت: إني امرأة غريبة فلا يليني غيرك، فماتت فغسلتها ووليتها قال عوف: فما رأيت أحدًا من أولئك الأشياخ (عتب) (٤) ولا عاب (عليه) (٥).حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں قسامہ بن زھیر کی مجلس میں موجود تھا، اس مجلس میں کچھ شیخ حضرات بھی تھے جنہوں نے حضرت عمر کا زمانہ پایا تھا، ایک شخص نے کہا : بنو عامر بن صعصعہ کی ایک عورت میری زوجہ تھی، اور اس شخص نے اس کی خیر والی (خیر کے ساتھ) مدح کی اور کہا جب خطر ناک طاعون پھیلا تو اس کو بھی طاعون کی بیماری لگ گئی، جب وہ قریب المرگ ہوئی تو کہنے لگی کہ میں ایک غریب عورت ہوں تیرے علاوہ میرے لئے کوئی حقدار اور مناسب نہیں ہے اور پھر وہ عورت مرگئی میں نے اس کو غسل دیا اور دفن کردیا۔ حضرت عوف فرماتے ہیں کہ ان بزرگوں میں سے کسی نے بھی اس کو اس فعل پر ملامت نہ کی اور نہ ہی اس کی زجر و توبیخ کی۔