مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الميت كم يغسل مرة؟ وما يجعل في الماء مما يغسل به؟ باب: غسل دیتے وقت میت کو کتنی مرتبہ دھویا جائے گا؟ اور جس پانی سے غسل دیا جا رہا ہے اس پانی میں کیا ملایا جائے گا؟
حدیث نمبر: 11228
١١٢٢٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل (بن أبي خالد) (١) عن حكيم بن جابر الأحمسي قال: لما مات الأشعث بن قيس وكانت ابنته تحت الحسن بن علي قال (٢): (إذا) (٣) غسلتموه فلا (تجهزوه) (٤) (حتى) (٥) (تؤذنوني) (٦) فآذناه فجاء فوضأه بالحنوط وضوءًا (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر الاحمسی فرماتے ہیں کہ جب حضرت اشعث بن قیس کا انتقال ہوا، ان کی بیٹی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم ان کو غسل دیدو تو مجھے بتائے بغیر ان کو کفن نہ پہنانا۔ ہم نے ان کو بتایا تو آپ نے ان کو خوشبو کے ساتھ وضو کروایا۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [ز]: زيادة (قال الحسن بن علي).
(٣) في [هـ]: (إذ).
(٤) في [أ، هـ، ص، ز]: (تهيجوه).
(٥) سقط من: [أ، ص].
(٦) في [أ، ب، ح]: (توذونني).