مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الميت كم يغسل مرة؟ وما يجعل في الماء مما يغسل به؟ باب: غسل دیتے وقت میت کو کتنی مرتبہ دھویا جائے گا؟ اور جس پانی سے غسل دیا جا رہا ہے اس پانی میں کیا ملایا جائے گا؟
١١٢٢٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن عن (عتي) (١) عن أبي قال: لما ثقل آدم أمر بنيه أن (يجذوا) (٢) (من) (٣) تمار الجنة (فجاؤوا) (٤) (فتلقتهم) (٥) الملائكة (فقالوا) (٦): ارجعوا فقد أمر (اللَّه) (٧) بقبض أبيكم، فرجعوا معهم فقبضوا روحه، وجاءوا معهم بكفنه وحنطوه وقالوا لبنيه: (احضروا) (٨) (فاغسلوه ⦗٤٦٢⦘ وكفنوه) (٩) وحنطوه وصلوا عليه، (وقالوا) (١٠): يا بني آدم هذه (سنة) (١١) (بينكم) (١٢) (١٣).حضرت ابی سے مروی ہے کہ جب حضرت آدم کا آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے جنت کے پھل لے کر آئیں، پس وہ چلے گئے ، جب وہ فرشتوں سے ملے تو فرشتوں نے کہا، تم واپس لوٹو اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کی روح قبض کرنے کا حکم فرمایا ہے، وہ فرشتے ان کے ساتھ لوٹے اور ان کی روح قبض فرمائی اور وہ اپنے ساتھ کفن اور خوشبو لائے اور ان کے بیٹوں سے کہا، ان کے پاس حاضر ہو جاؤ، ان کو غسل دو ، ان کو کفن دو اور خوشبو لگاؤ اور ان پر نماز پڑھو، پھر فرمایا اے بنی آدم ! یہ تمہارے والد کی سنت ہے۔