مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كره أن يتصدق الرجل بشر ماله باب: گھٹیا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 11097
١١٠٩٧ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين أنه سأل عبيدة عن قوله (تعالى) (١): ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ (وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ) (٢)﴾ [البقرة: ٢٦٧]، إنما ذلك في الزكاة، والدراهم الزيف أحب إلي من التمر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عبیدہ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا ارشاد { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہ } کا نزول کیوں ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ص، ز، ك]: (تعالى).
(٢) سقط من: [ب].