مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الرجل يقرأ القرآن وهو غير طاهر باب: بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت کا حکم
حدیث نمبر: 1107
١١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع (سلمان) (١) في حاجة، فذهب (فقضى) (٢) حاجته، ثم رجع فقلنا له: توضأ يا أبا عبد اللَّه؛ لعلنا أن نسألك عن آي من القرآن قال (٣): فاسألوا: فإني لا أمسه: إنه لا يمسه إلا المطهرون: قال فسألناه، فقرأ (علينا) (٤) قبل أن يتوضأ (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت سلمان کے ساتھ تھے، حضرت سلمان رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو ہم نے کہا کہ وضو کر لیجیے، شاید ہم آپ سے کسی آیت قرآنی کے بارے میں پوچھ لیں۔ فرمایا تم پوچھ لو، میں قرآن کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا کیوں کہ اسے تو صرف پاک لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ پھر ہم نے ان سے قرآن کے بارے میں پوچھا اور انہوں نے وضو سے پہلے ہمیں اس میں سے پڑھ کر سنایا۔
حواشی
(١) في [د]: (سليمان).
(٢) في [أ، خ، ك]: (وقضى)، وفي [هـ]: (ويقضي) وفي [جـ]: (يقضي) وفي [د، هـ]: (فقضى).
(٣) في [أ، جـ، خ، ك]: قلادة (قال).
(٤) في [ك]: و [جـ]: (عليها).