حدیث نمبر: 11052
١١٠٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في رجل وجبت عليه فريضة في إبله (لم) (١) (تكن) (٢) عنده (قال) (٣): فقال: يترادان (الفضل فيما بينهما) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حماد فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں کہ جس کے مال پر زکوٰۃ جو واجب ہوئی ہے وہ اس کے پاس نہیں ہے تو دونوں آپس میں زیادتی کو لوٹا لیں گے۔ (یعنی جو زائد لے گا وہ اس کے بدلہ میں کچھ واپس لوٹائے گا) ۔

حواشی
(١) في [ب، ز، ك]: (فلم).
(٢) في [أ، ح، ص]: (يكن).
(٣) زيادة من [ف، هـ].
(٤) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11052، ترقيم محمد عوامة 10845)