مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
(من قال لا تحل الصدقة على بني هاشم) باب: بنو ہاشم کو صدقہ (زکوٰۃ) دینا جائز نیںی ہے
حدیث نمبر: 11015
١١٠١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن ابن أبي رافع (عن أبي رافع) (١) أن رسول اللَّه ﷺ بعث رجلًا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع: (تصحبني) (٢) (كيما) (٣) (تصيب) (٤) منها؟ فقال: لا، حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، فانطلق إلى رسول اللَّه ﷺ، (فسأله) (٥)، فقال (له) (٦): "إن الصدقة لا تحل لنا، ومولى القوم من أنفسهم" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کی طرف صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس شخص نے حضرت ابو رافع سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلو تا کہ آپ کو بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور قوم کے موالی بھی انہی میں سے ہیں ۔ (ان کا بھی وہی حکم ہے) ۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ص].
(٢) سقط من: [ح]، وفي [أ]: (اصحبني).
(٣) في [ز، ك]: (كما).
(٤) في [ح]: (يصيب).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) سقط من: [أ، ح، ز، ك].