حدیث نمبر: 11012
١١٠١٢ - [حدثنا وكيع وأبو أسامة عن ثابت بن (١) عمارة عن شيح يقال له ربيعة بن شيبان قال: قلت للحسن بن علي ﵄: ما (تذكر من) (٢) رسول اللَّه ﷺ وما تعقل عنه؟ قال: أخذت تمرة من تمر الصدقة، فلكتها، فقال النبي ﷺ: "إنا لا تحل لنا الصدقة] (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیعہ بن شہبان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس بات پر آپ کو نصیحت (تنبیہ) فرمائی تھی اور کس بات سے آپ کو روکا تھا ؟ حضرت حسن نے فرمایا میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمارے لئے صدقہ (کھانا) حلال نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ] زيادة: (أبي).
(٢) في [ب]: (قال لك)، وفي [س]: (تذكّر عن).
(٣) سقط الحديث سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11012
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٢٤)، وابن خزيمة (٢٣٤٧)، وابن حبان (٧٢٢)، وأبو يعلى (٦٧٦٢)، وعبد الرزاق (٤٩٨٤)، والطبراني (٢٧١١)، والطيالسي (١١٧٧)، والدارمي (١٥٩١)، والطحاوي (٢/ ٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11012، ترقيم محمد عوامة 10807)