مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما ذكر في الكنز والبخل (بالحق) في المال باب: مال میں بخل اور خزانے سے متعلق جو مذکور ہے اسکا بیان
حدیث نمبر: 11010
١١٠١٠ - حدثنا (خلف) (١) بن خليفة عن أبي هاشم عن أبي وائل عن مسروق في قوله (تعالى) (٢): ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾. قال: هو الرجل يرزقه ⦗٣٩٠⦘ اللَّه المال فيمنع قرابته الحق الذي جعل اللَّه لهم فيه، فيجعل حية فيطوقها، فيقول: مالي ومالك، (فتقول) (٣) الحية: أنا مالك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق اللہ پاک کے ارشاد { سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت عطا فرمائی لیکن اس نے قرابت دار کو اسکا حق ادا نہ کیا، تو وہ مال اسکے لئے سانپ بنادیا جائے گا جس کا اس کو طوق پہنایا جائے گا، تو وہ کہے گا، میرے اور تیرے درمیان کیا تعلق ہے ؟ (یعنی تو مجھ کو کیوں چمٹ گیا ہے ؟ ) سانپ اس سے کہے گا میں تیرا مال ہوں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (خالد).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ص]: (تقول)، وفي [أ، هـ]: (فيقول).