حدیث نمبر: 10996
١٠٩٩٦ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد وعروة عن حكيم بن (حزام) (١) عن النبي ﷺ قال: "اليد العليا خير من اليد السفلى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک دن بھوک کی وجہ سے میں نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھ لی، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص پاکدامنی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاکدامن رکھتا ہے اور جو استغناء چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو مستغنی فرما دیتا ہے اور جس نے ہم سے سوال کیا یا تو ہم اس کو خرچہ دے دیں گے یا اس کی امداد کردیں گے۔ (لیکن) جو مستغنی اور (سوال کرنے سے) پاکدامن رہا ہم سے یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم سے سوال کرے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں واپس لوٹ گیا اور کسی چیز کا سوال نہ کیا۔

حواشی
(١) في [ص]: (حرام)؛ وفي [ك]: (خرام).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٤٤١) ومسلم (١٠٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10996، ترقيم محمد عوامة 10791)