حدیث نمبر: 10991
١٠٩٩١ - حدثنا ابن نمير عن (المجالد) (١) عن الشعبي عن (حبشي) (٢) (بن) (٣) جنادة السلولي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول (وأتاه) (٤) أعرابي، فسأله، فقال: "إن المسألة لا تحل إلا (لفقر) (٥) مدقع أو غرم مفظع" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک سائل نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت عبد اللہ بن جعفر سے سوال کیا، سب حضرات نے اس کو فرمایا : اگر تو سوال کرتا ہے کہ تیرے اوپر بھیانک اور شدید قرض ہے یا بہت سخت فقر ہے یا تو نے خون بہا ادا کرنا ہے ورنہ تو قتل کردیا جائے گا تو پھر تیرے لیے سوا ل کرنا جائز ہے (وگرنہ نہیں) ۔

حواشی
(١) في [أ]: (مجالد).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [ص]: (عن).
(٤) في [ص]: (وأعطاه).
(٥) في [أ، ح، ز]: (لفقير).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10991
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه الترمذي (٦٥٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥١٢)، والطبراني (٣٥٠٤)، وابن عدي (٢/ ٤٤٢)، وابن قانع (١/ ١٩٨)، وابن معين في تاريخه (٣/ ١٧)، والقزويني في التدوين (٤/ ٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10991، ترقيم محمد عوامة 10786)