مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما رضي فيه من المسألة لصاحبها؟ باب: بعض حضرات نے کچھ مخصوص لوگوں کیلئے سوال کرنے کی گنجائش اور رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 10990
١٠٩٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحل الصدقة إِلا لخمسة: رجل اشتراها مسألة، أو رجل عمل ⦗٣٨٢⦘ عليها، أو ابن السبيل، أو في سبيل اللَّه، أو رجل كان له جار فتصدق (عليه) (١) (فأهدى) (٢) له" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبشی بن جنادہ السلولی سے مروی ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اعرابی سوال کرتا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوال کرنا جائز نہیں ہے مگر اس فقر میں جو شدید اور سخت ہو اور اس قرض میں جو بھیانک اور شدید ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ح].
(٢) في [ح]: (وأهدى).