مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما رضي فيه من المسألة لصاحبها؟ باب: بعض حضرات نے کچھ مخصوص لوگوں کیلئے سوال کرنے کی گنجائش اور رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 10989
١٠٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد (الخدري) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحل الصدقة لغني إلا (لثلاثة) (٢) في سبيل اللَّه (أو) (٣) ابن السبيل أو رجلًا (كان له جار) (٤) فتصدق عليه فأهدى (له) (٥) " (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صدقہ پانچ اشخاص کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، اس شخص کیلئے جو اسکو اپنے مال سے خریدتا ہے یا وہ شخص جو اس پر کام کرتا ہو، یا مسافر کیلئے، یا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں ہے، یا اس کے کسی پڑوسی کو زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ اس کو ہدیہ کر دے۔
حواشی
(١) زيادة في [ب].
(٢) في [ص]: (ثلاثة).
(٣) في [ب]: (و).
(٤) سقط من: [أ، ح، ص].
(٥) سقط من: [ح].