مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
قوله تعالى: ﴿والذين في أموالهم حق معلوم﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے قول {وَالَّذِینَ فِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ} کا بیان
حدیث نمبر: 10919
١٠٩١٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم عن إبراهيم قال: كانوا إذا (خرجت) (١) أعطياتهم تصدقوا منها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے اہل ذمہ میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابوعائشہ رضی اللہ عنہا تھی اس کے بیس ہزار (درہم) لیے اور بیت المال میں داخل کردیئے۔ پھر جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے اس کا بیٹا آپ کے پاس آیا اور اپنی مظلومیت کی داستان آپ تک پہنچائی۔ آپ نے میمون کو لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس لوٹا دو اور اس سال کی زکوٰۃ بھی وصول کرلو۔ اگر یہ مال ضمار (وہ مال اور قرض جس کے واپس ملنے کی امید نہ ہو) نہ ہوتا تو میں گزرے ہوئے سالوں کی زکوٰۃ بھی وصول کرتا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أخرجت).