مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في نصارى بني (تغلب) ما يؤخذ منهم؟ باب: بنو تغلب کے نصاریٰ سے کیا وصول کیا جائے گا
١٠٨٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن أبي مجلز أن عمر بعث (١) عثمان بن خيف، فجعل على أهل الذمة في أموالهم التي يختلفون بها في كل عشرين درهمًا درهمًا، وكتب بذلك إلى عمر (بن الخطاب) (٢)، فرضي وأجازه، وقال لعمر: كم تأمرنا أن نأخذ من (تجار) (٣) أهل (الحرب) (٤)؛ قال: كم يأخذون منكم إذا أتيتم (بلادهم) (٥)؟ قالوا: العشر، قال: فكذلك فخذوا منهم (٦).حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان بن حنیف کو (عشر وغیرہ وصول کرنے کیلئے) بھیجا، انہوں نے ذمیوں کے اموال پر جو دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور تجارت کرتے تھے ہر بیس درہم پر ایک درہم مقرر کردیا، اور حضرت عمر فاروق کو یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آپ اس پر راضی ہوگئے اور اس کی اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمر فاروق سے عرض کیا کہ : آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم اہل حرب کے تاجروں سے کتنا وصول کریں ؟ آپ نے فرمایا جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو تو تم سے کتنا وصول کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا عشر، تو آپ نے فرمایا اتنا ہی تم ان سے وصول کرو۔