مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في نصارى بني (تغلب) ما يؤخذ منهم؟ باب: بنو تغلب کے نصاریٰ سے کیا وصول کیا جائے گا
حدیث نمبر: 10889
١٠٨٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن محمد بن زياد بن حدير (١) قال: كنت مع جدِّي، فمر عل نصراني بفرس قيمته [عشرون ألفًا، فقال له: إن شئت أعطيت ألفين وإن شئت أخذت الفرس وأعطيناك (قيمته) (٢)] (٣) ثمانية عشر ألفًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں اپنے دادا کے ساتھ تھا، ہمارے پاس سے ایک نصرانی گھوڑے پر سوار ہو کر گزرا اور اس کے گھوڑے کی قیمت بیس ہزار (درہم) تھی، انہوں نے اس نصرانی سے کہا اگر تو چاہے تو دو ہزار دے دیں، اور اگر تو چاہے تو میں گھوڑا لے لوں اور ہم تجھے اس کی قیمت اٹھارہ ہزار (درہم) دے دیں۔
حواشی
(١) انظر: تاريخ ابن معين ٣/ ٤٣٩، والتاريخ الكبير ٤/ ٩٤، والجرح والتعديل ٤/ ٢٢١، وتاريخ بغداد ١١/ ٢٨٦، والأموال لأبي عبيد ١/ ٦٤١، وغريب الحديث للحربي ١/ ٦٩، وأحكام أهل الذمة ١/ ٣٤٣.
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح].