مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في نصارى بني (تغلب) ما يؤخذ منهم؟ باب: بنو تغلب کے نصاریٰ سے کیا وصول کیا جائے گا
حدیث نمبر: 10887
١٠٨٨٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن السفاح (بن) (١) مطر عن داود ابن كردوس عن عمر بن الخطاب أنه صالح نصارى بني تغلب على أن تضعف عليهم الزكاة مرتين، وعلى أن (لا) (٢) ينصروا صغيرًا، و (على) (٣) أن لا يكرهوا على دين غيرهم (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن کردوس سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بنو تغلب کے نصاریٰ کے ساتھ (اس شرط پہ) صلح فرمائی تھی کہ ان سے زکوٰۃ کا دو گنا وصول کیا جائے گا۔ اور ان کے چھوٹوں کو نصاریٰ نہیں بنایا جائے گا، اور نہ ہی ان کو کسی غیر دین پر مجبور کیا جائے گا۔ داؤد راوی فرماتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے، تحقیق وہ نصرانی ہوگئے۔
حواشی
(١) في [ص، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ح].
(٣) سقط من: [أ].
(٤) مجهول، لجهالة داود بن كردوس.